میرا نکاح ہو چکا ہے لیکن ابھی رخصتی (شادی) نہیں ہوئی۔ آپ سے میرا سوال یہ ہے کہ جب بھی میں اپنے شوہر سے فون پر بات کرتی ہوں تو جذبات کی وجہ سے میری شرمگاہ سے پانی جیسا مادہ خارج ہوتا ہے۔ 1. کیا اس صورت میں مجھ پر غسلِ جنابت واجب ہو جاتا ہے؟ 2. کیا خارج ہونے والا یہ مادہ میرے کپڑوں کو نجس کر دیتا ہے؟ 3. اگر غسل واجب نہیں ہوتا تو کیا وضو کرنا ضروری ہے؟ براہِ کرم شرعی احکام(آیت اللہ سیستانی)کی روشنی میں قرآن و سنت اور فقہِ جعفریہ کے مطابق رہنمائی فرمائیں۔

مردون میں منی کی تین علامات ہیں: (1) اچھل کر نکلنا، (2) لذت اور شہوت کے ساتھ نکلنا اور (3) نکلنے کے بعد جسم کا سست ہو جانا۔ جبکہ خواتیں میں منی کی دو علامتیں ہیں؛ (1) لذت اور شہوت کے ساتھ نکلنا اور (2) نکلنے کے بعد جسم کا سست ہو جانا، ڈھیلا پڑ جانا۔ (خواتیں میں اچھل کر نکلنا ضروری نہیں ہے) اگر مندرجہ بالا علامات موجود ہوں تو غسل بھی واجب ہے اور وہ رطوبت نجس بھی ہے اور جسم یا بدن کے ساتھ لگ جائے تو اسے دھونا اور پاک کرنا بھی ضروری ہے۔ بصورت دیگر (مندرجہ بالا علامات نہ ہوں) وہ رطوبت منی نہیں کہلائے گا اور اس کے نکلنے سے غسل بھی واجب نہیں ہوگا، وہ رطوبت نجس بھی نہیں ہے۔ لباس یا بدن پر لگنے سے نجس نہیں گا۔