ہم سید خاندان سے تعلق رکھتے ہیں میرا بیٹا عرب ملک میں رہتا ہے اور میری بہو نے میرے بیٹے اور ہم میں سے کسی کو بھی بتائے بغیر خلع لیا ہے اور اب کسی اہل سنت لڑکے سے فون پہ نکاح کر لی تھی پھر ایک عرصہ ہمارے ساتھ گھر میں رہی پھر جس کے ساتھ انہوں نے نکاح کیا تھا ان کے ساتھ چلی گئی۔ پہلا سوال یہ ہے کہ اس میں ہم گناہگار تو نہیں ہوں گے؟ دوسرا سوال یہ ہے کہ کیا جو اس خاتون(ہماری بہو) نے کیا ہے وہ درست ہے؟

1۔ اس میں آپ بالکل بھی گناہگار نہیں ہے۔ اگر گنہگار ہے تو وہ خاتون ہے جس نے غیر شرعی طریقے سے طلاق لی ہے اور دوسرے کسی کے ساتھ نکاح بھی کر لیا ہے۔ 2۔ اگر وہ خاتون (آپ کی بہو) کا تعلق فقہ جعفریہ سے ہے تو ان کو معلوم ہونا چاہیے کہ فقہ جعفریہ میں عدالت کی جانب سے دی گئی طلاق درست نہیں ہے۔ کیونکہ طلاق دینے کا حق صرف شوہر کے پاس ہے۔ (اور اگر شوہر نا انصافی کرتے ہوئے طلاق نہیں دے رہا تو اس صورت میں حاکمِ شرع کے پاس درخواست جمع کر سکتی ہیں۔) لہٰذا اس خاتون نے اپنے شوہر سے شرعی طریقے سے طلاق نہیں لی اور پھر کسی اور سے نکاح بھی کر لیا ہے۔ یہ دونوں انہوں نے غلط کیا ہے۔ غیر شرعی کام کیا ہے۔ ان کی طلاق بھی صحیح نہیں ہے اور بعد میں کیا جانے والا نکاح بھی غلط ہے۔ ان کو چاہیے کہ جتنا جلدی ہو سکے اس لڑکے سے جدائی اختیار کرے جس کے ساتھ بعد میں نکاح کیا ہے۔