آغا صاحب سوال یہ ہے کہ حمل کے دوران ایک خاتون کی جان بچانے کے لیئے آپریشن کے زریعہ اس کے پیٹ سے پانچ ماہ کا بچہ ڈاکٹر نکال دے تو کیا بچے کی ماں کو غسل مس میت کرنا پڑے گا؟ جواب عنایت فرمائیے شکریہ
اگر پیٹ کے اندر بچہ مر جائے اور طبیعی راستے ہی بچے کا جسم ماں کی پیٹ سے باہر نکل آئے یا نکال لے تو ماں کے جسم کے باہر والے حصوں کے ساتھ چھو جاتا ہے اس لیے اس بچے کی ماں پر غسل مسِ میت ہے۔ اور اگر طبیعی راستے سے نہ نکل سکے یا نہ نکال سکے۔ اور ڈاکٹرز اس بچے کو اس کی ماں کے پیت کو چاک کر کے باہر نکالے تو اس صورت میں بھی اس مردہ بچے کا بدن اس کی ماں کے بدن کے باہر والے حصے سے چھو جائے تو وہ اس صورت میں بھی ماں پر غسل مسِ میت ہے۔ لیکن اگر باہر والے کسی حصے کے ساتھ مَس ہی نہ کرے تو ماں پر غسلِ مسِ میت فرض نہیں ہے۔