میں نے ایک بات سنی تھی کہ صدقہ دیتے وقت اس بات کا خیال رکھا جائے کہ جس کو آپ دے رہے ہیں وہ مکتبِ اہل بیت علیہم السلام سے یا محمدﷺوآل محمدؑ کے ماننے والوں میں سے ہو۔ لیکن ہم اپنے ارد گرد بھی ایسے لوگوں اور ضرورتمندوں کو بھی دیکھ رہے ہوتے ہیں کہ ان کا تعلق مکتبِ اہل بیت کے ماننے والوں میں سے تو نہیں ہے لیکن ان سے کوئی دشمنی بھی ثابت نہیں ہوتی کہ وہ دشمنانِ اہل بیت میں سے ہو۔ شیعہ گھروں میں بھی آنا جانا بھی ہے اور شیعہ گھروں میں کام بھی کر رہے ہوتے ہیں لیکن بہت ضرورت مند بھی لگ رہے ہوتے ہیں۔ اور ہم جب صدقہ نکالتے ہیں تو یہ ہوتا ہے کہ فوراً کسی حقدار کو دے دیں۔ تو کیا ہم اپنے نکالے ہوئے صدقے ایسے اپنے آس پاس رہنے والے ضرورت مندوں کو دے سکتے ہیں یا یہ تحقیق کرنا ضروری ہے کہ یہ اہل بیت کے ماننے والے ہیں یا نہیں، پھر ان کو صدقہ دے دیں؟ اس سلسلے میں میں میری رہنمائی کیجیے گا۔

اگر صدقہ آپ کا واجب صدقہ ہے جیسے آپ نے نذر کیا ہوا ہے یا فطرانہ یا زکوٰۃِ مالی، ان صدقات میں ضروری ہے کہ شرائط کے مطابق اس صدقے کے حقدار کو ہی دیے جائیں، ہر مانگنے والے کو دینا درست نہیں ہے۔ لیکن اگر صدقہ واجب نہیں مستحب صدقات میں سے ہے تو بہتر ہے کسی مؤمن فقیر، پانچ وقتی نماز گزار عبادت گزار کسی ضرورت مند کو دیں تو بہت بہتر ہے اس کا اثر زیادہ بہتر ہوتا ہے۔ لیکن ایسا کو اسے کسی بھی ضرورت مند انسان کو بھی دیا جا سکتا ہے۔