اگر کسی لڑکی کے والدین نے بچپن میں عقیقہ نہیں کیا تو وہ بعد میں اپنے شوہر کی تنخواہ سے پیسے بچا کر اپنا عقیقہ کروا سکتی ہیں؟اور اگر وہ شوہر کو بھی نہ بتائے کہ آپ کی تنخواہ سے بچت کر کے عقیقہ کروایا ہے تو کیا حکم ہے؟
عقیقہ مستحب ہے اور زندگی میں کسی بھی مرحلے میں کسی بھی وقت کر سکتے ہیں۔ اگر شوہر کی طرف سے آپ کو اختیار دے رکھا ہو تو اس کے دیے ہوئے پیسوں میں سے بچت کر کے آپ اپنا عقیقہ کرتی ہیں تو درست ہے آپ کا عقیقہ ہو جاتا ہے۔ لیکن اگر شوہر کی طرف سے آپ کو اختیار حاصل نہ ہو تو عقیقہ تو درست ہے لیکن آپ کا عقیقہ نہیں ہوگا بلکہ جس کا مال ہے اس کا عقیقہ شمار ہوگا۔ لہٰذا جب آپ شوہر کے پیسوں سے عقیقہ کروانا ہے تو ان کی اجازت لے لیں۔