میری معلومات کے مطابق شوہر پر اپنی زوجہ کے کھانے، لباس، رہائش، علاج وغیرہ کا بندوبست کرنا بنیادی ذمے داریوں میں شامل ہے۔ میرا سوال یہ ہے کہ دور حاضر (جدید دور) میں کسی کی خاتون (زوجہ) کے حوالے سے ہے کہ اگر وہ خود نوکری پیشہ بھی ہو تو کیا شوہر پر خاتون کی ضروریات پوری کرنا فرض ہے؟ اور اگر خاتون کے والد امیر ہو جبکہ خود شوہر اتنے مالدار نہ ہو تو کیا شوہر پر عورت کو اپنی دولت اور استطاعت کے مطابق معیارِ زندگی فراہم کرنا کافی ہوگا یا اس کے والد کے گھر میں جو لائف سٹائل وہ جی رہی تھی وہی لائف سٹائل دینا بھی شوہر پر فرض ہے؟ اس کے علاؤہ خاتون کے بنیادی ضروریات پوری کرنا ہی شرعا فرض ہے یا اس کے ذاتی دیگر خواہشات بھی پوری کرنا بھی شوہر پر شرعا واجب ہے؟ رہنمائی کیجیے گا۔
میاں بیوی کے درمیان شوہر پر جو فرائض ہیں وہ کھانا پینا، رہنے کے لیے مناسب رہائش، بسترے وغیرہ کا انتظام، پہننے کے لیے مناسب لباس ہیں۔ یہ چیزیں زندگی کی ضروریات میں شامل ہیں اس لیے یہ چیزیں بحیثیت شوہر اس پر فرض ہے کہ وہ اپنی زوجہ کو ضروریات زندگی فراہم کرے۔ لیکن دیگر جیپ خرچ، یا دیگر خواہشات کا پوری کرنا شرعا فرض نہیں ہے۔ لیکن اگر شوہر کی مالی حیثیت ہے تو اپنی بیوی دیگر اخراجات بھی پورے کر سکتے ہیں۔