ایک شخص وفات پا گئے ہیں۔ وقت وفات اس کے وارثین میں اس کی والدہ، زوجہ، دو لے پالک بیٹے، ایک بھائی اور ایک بہن موجود تھے۔ اور اس نے تَرکَے میں زرعی زمین اور ایک پلاٹ چھوڑے تھے۔ اب فقہِ جعفریہ کی روشنی میں اس کی وراثت کیسے تقسیم ہوگی؟
مذکورہ سوال کے مطابق مرحوم کی اولاد نہ ہونے کی بنیاد پر زوجہ (بیوہ) کو وراثت میں سے منقولات کا ایک چوتھائی حصہ ملے گا اور باقی تین چوتھائی حصہ والدہ کو ملے گا ۔ ضروری وضاحت: 1۔ مجتہدین کے فتاویٰ کی روشنی میں زوجہ (بیوہ) کو شوہر کے تَرَکے کا صرف منقولات میں سے حصہ ملے گا۔ لہٰذا مذکورہ سوال کی روشنی میں چونکہ منقولہ جائیداد کا کوئی ذکر نہیں ہے اس لیے زرعی زمین اور پلاٹ دونوں والدہ کو ملے گا۔ زوجہ (بیوہ) کو ان میں سے کچھ نہیں ملے گا۔ 2۔ لے پالک بیٹوں کےلیے مرحوم کی وراثت نہیں ملے گی۔ لیکن ہاں اگر مرحوم شخص نے اپنی زندگی میں لے پالک بیٹوں کے لیے کچھ مال یا حصہ مختص کیا ہو تو وہ ملے گا۔ یا اگر اس نے وقت وفات ان (لے پالک بیٹوں) کے لیے بھی وصیت کی ہو تو پوری وراثت کے ایک تہائی پر ان کی وصیت نافذ ہوگی۔