کیا سیدہ (سیدزادی) کا نکاح کسی غیر سید مرد سے ہو سکتا ہے؟ اگر وہ مرد پہلے سنی تھا اور بعد میں شیعہ ہوا (یعنی کنورٹڈ شیعہ ہے) اور اس کی باقی فیملی سنی ہے، تو کیا اس سے حکمِ شرعی میں کوئی فرق پڑتا ہے؟ کیا کسی مرجعِ تقلید نے سیدہ کا غیر سید سے نکاح حرام قرار دیا ہے یا اس کے لیے کوئی خاص شرائط بیان کی ہیں؟ یا یہ نکاح عام شادیوں کی طرح ہے؟ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اگر کوئی غیر سید مرد سیدہ سے شادی کرنا چاہے تو اس کا بہت زیادہ نیک، پرہیزگار اور اعلیٰ کردار کا ہونا ضروری ہے۔ کیا واقعی کسی مرجعِ تقلید نے ایسی کوئی خاص شرط بیان کی ہے، یا یہ نکاح بغیر کسی شرط کے جائز ہے جیسے باقی شادیاں

شادی کے لیے جو رشتہ آتاہے اس میں ایمان تقویٰ اور پرہیز گاری کے لحاظ سے اور اخلاق و آداب کے لحاظ سے دیکھنا چاہیے لیکن خاص شرط کسی مجتھد کی طرف سے نہیں آیا ہے اور سید زادی کا شادی غیر سید میں کے ساتھ کرنے میں شرعی لحاظ سے کئی حرج نہیں ہے اگر معاشرے میں اس کو برا نہ سمجھے تو اور جتنے ہو سکے مؤمن متدین اور متقی کے ساتھ کریں ۔