اگر ایک گھر میں تین چار بھائی ہو تو کیا والدین کو اس بھائیوں کو کس طرح حقوق دینا چاہیے کیا اس میں انصاف کی ادائیگی ضروری ہے؟
وراثت میں شریعت نے جیسا کہا ہے اس کے مطابق دینا ضروری ہے نہ باپ کو کچھ کرنے کا حق ہے نہ اولاد کو اور شریعت میں بتایا ہے لڑکے کو دو حصہ اور لڑکی کو ایک حصہ یہ شریعت کی طرف سے مقرر شدہ ہے۔ اگر زندہ ہے تو دو باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ اگر بیٹوں میں سے ایک دو کا مالی حالت بہتر ہو اور ایک کے پاس کچھ نہیں وہ غریب ہے تو اس کو زیادہ توجہ دیں گے۔ یا مثلا ضرورت کے لحاظ سے دیکھیں جیسے ایک مریض ہے دو مریض کے علاج معالجے کے خاطر زیادہ توجہ دے سکتے ہیں۔