ار ماں باپ کا دنیا سے چلے جانے کے بعد ین کا وراثتی گھر میں ایسے بیٹیوں کا بھی حصہ ہے جو فقہ جعفریہ گھر میں شادی کر کے نہیں گئی اور یہ کہ اگر مرحوم خود وصیت کرکے جائیں کہ شادی شدہ بیٹیوں کو کوئی حصہ نہیں انہیں سب دے کر رخصت کردیا تہ مرحوم کی وصیت کی کیا اہمیت ہے
اس طرح کی وصیت کی کوئی حیثیت نہیں ہے یہ شریعت کا حکم ہے اگر شریعت کے بر خلاف کوئی بندہ وصیت کرے کہ میرے بعد میرے بیٹیوں کو کئی حصہ نہیں ہے اس طرح کے وصیت قابل عمل نہیں ہے۔ اگر مرحوم کسی اور کے بام کردے فرض کرے میرے تمام جائداد فلاں کو تو اس صورت میں اسی شخص کو جس کے لیے مرحوم نے وصیت کی ہے ایک تہائی دیاجائے گا اور باقی جو بچتا ہے اس میں باقی وارث راضی ہوجائے تو ٹھیک ورنہ دو تہائی میں برابر کر کے تقسیم کردیا جائے گا۔