اگر کوئی شخص بینک میں پیسے رکھے اس سے جو منافع ملتا ہے کیا وہ جائز ہے یا نہیں؟ بینک میں دو طرح کے اکاونٹ بنتا ہے ایک میں صرف ہمارا پیسہ محفوظ رہتا ہے دوسرے میں سود ملتا ہے یعنی ہمارے پیسوں پر ہمیں منافع دیا جاتا ہے۔ کیا جو سود اور منافع ملتا ہے وہ جائز ہے یا نہیں؟ کچھ لوگوں سے سننے میں آیا ہے کہ آقائ سیستانی (مدظلہ العالی) کے فتویٰ کے مطابق ہم بینک سےسود لے سکتے ہیں اور اس سود کا آدھا حصہ ضرورتمندوں اور فقراء کو دے دیں تو سود لے سکتے ہیں۔ کیا یہ بات درست ہے؟

آیت اللہ العظمیٰ سیستانی مدّظلہ العالی کے فتویٰ کے مطابق اگر بینک سرکاری ہو تو وہاں سے جو سود کی مد میں ملتا ہے وہ سود شمار نہیں ہوگا کیونکہ مالک معین اور مشخَّص نہیں ہے۔ اس لیے وہاں سے جو منافع ملتا ہے اسے لینا جائز ہے۔ اور باقی مراجعِ عظام کے فتاویٰ کے مطابق سیونگ اکاونٹ سے جو مانفع ملتا ہے اسے لینے میں کوئی حرج نہیں ہے جائز ہے۔ لیکن اگر فکس کریں گے تو پھر جائز نہیں ہے۔